ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اُڈپی میں سرکاری ڈگری کالج کے عارضی لکچرروں نے بوٹ پالش اور چائے بیچ کر کیا انوکھا احتجاج

اُڈپی میں سرکاری ڈگری کالج کے عارضی لکچرروں نے بوٹ پالش اور چائے بیچ کر کیا انوکھا احتجاج

Sat, 08 Jan 2022 20:19:44    S.O. News Service

اُڈپی:8؍ جنوری (ایس اؤ نیوز) اپنی خدمات کو مستقل کرنے اورنوکری کے تحفظ کا مطالبہ لےکر گذشتہ 26دنوں سے احتجاج کررہے سرکاری کالجوں میں تدریسی خدمات سے وابستہ عارضی لکچرروں نے اجّرکاڑو کے بھجنگ پارک کے قریب بوٹ پالش کرتے ہوئے، چائے بیچتے ہوئے اور جھاڑولگاتے ہوئے انوکھے انداز میں احتجاج کیا۔

سرکاری ڈگری کالج کے عارضی لکچرر، ہتا رکشھنا سمیتی کی ضلعی شاخ اور ڈگری کالج کے عارضی لکچرر تنظیموں کے محاذ کی قیادت میں جاری احتجاج میں شریک سبھی لکچرروں نے وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی اور وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اشوتھ نارائن کا نقابی چہرا پہنتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کئے۔ عارضی لکچرر ممتا نے جائے مقام پر چائے بیچتے ہوئےاحتجاج کیا تو ستیش سالی گرام نے بوٹ پالش کرتےہوئےحکومت پر ملامت کی۔ سبرامنیا سمیت کئی دیگر لکچررحضرات نے جھاڑو لگاتےہوئے حکومت کومتنبہ کیا۔

تنظیم کی ضلعی صدر شاہدہ جہاں نے احتجاجیوں سے خطاب کرتےہوئےکہاکہ 1977کے سی ایس عام تقرری کے مطابق عارضی لکچرروں کو مستقل کرنے کی سہولت میسر ہے، متعلقہ حکم پر ملک کی سبھی ریاستوں میں عمل کیاجارہاہے لیکن صرف ہماری ریاست میں اس کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ بچوں کا مستقل سنوارنے والے اساتذہ کا ہی مستقل گم ہے، نیٹ، سلیٹ، پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی 11ہزارروپیوں کےلئے مزدوری کررہےہیں، اس تعلق سے ارکان اسمبلی اور وزراء سے کہاجاتاہے تو ہمارا مذاق اڑایا جاتاہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگلے چاردنوں میں ہمارے مطالبات پورے نہیں کئےگئے تو کالجوں کے سامنےہی غیر معینہ مدت بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔

عارضی لکچرر کنٹھ دیواڑیگا نے بات کرتےہوئے کہاکہ یوجی سے اصولوں کے مطابق عارضی لکچرروں کو فی گھنٹہ 1500روپئے کی تنخواہ دینی ہے اس پر بھی عمل نہیں کیاجارہاہے، بچوں کا مستقل سنوارنے والے استادوں کی ہی کوئی قدر وقیمت نہ ہونے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ سبھی کالجوں کے اساتذہ احتجاج میں شریک ہیں۔ کالجوں میں 75فی صد لیچکررس عارضی ہیں صرف 25فی صد مستقل لکچررس اپنی خدمات انجام دے رہے  ہیں۔  زائد لیکچررس عارضی ہونے کی بنا پر طلبا کے کلاسس نہیں ہورہےہیں۔ اس طرح بچوں کے ساتھ ہمارا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اگرایسا ہی رہا تو اگلے چند دنوں میں ہمارے بھی حالات پکوڑابیچنے اور بوٹ پالش کرنے کے  پیدا ہوجائیں گے۔ 

 اس موقع پر سنگھا کے ضلعی جنرل سکریٹری سنتوش، سکریٹری ڈاکٹر سبرامنیا ، دیگر ممبران ڈاکٹر ریشما یوگانند، ممتا، رنجیت شٹی، سبرامنیا، ستیش ، ونئے چندرا ، مہیش کوٹاری اور سماجی کارکن نتیانند ولکاڑو وغیرہ موجود تھے۔


Share: